اے خدا کے نبی ؑ ! یہ مجھ سے محبت نہیں کرتا، صرف باتیں بناتا ہے

اے خدا کے نبی ؑ ! یہ مجھ سے محبت نہیں کرتا، صرف باتیں بناتا ہے، اسے میرے ساتھ ساتھ ایک اور چڑیا سے بھی محبت ہے ۔

میں نے اپنی زندگی کے چالیس سال گزار دے
ان چالیس سالوں میں رب کی مخلوق کو راضی کرکے رب کو راضی کرنے کی لالچ ہمیشہ شامل حال رہی ہے
میرا راب جانتا ہے کہ اس محبت کے علاوہ کسی اور چیز کی خواہش کبھی بھی دل میں نہیں رہی محبت میں ملاوٹ نا ہو تو کامیابی کی امید ہمیشہ زندہ رہتی ہے دعا کریں کہ اللہ میری محبت کو قبول کر لیں

محبت میں ملاوٹ نہیں ہوتے کاش کہ دل میں رب کی محبت آتش عشق کی طرح لگ جائے

منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک نرچڑیا کو دیکھا، جو اپنی مادہ سے کہہ رہا تھا۔تم مجھ سے کیوں بھاگتی ہو؟ اگر میں چاہوں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے گنبد کو اپنی چونچ میں پکڑ کر دریا میں پھینک دوں۔جناب سلیمان علیہ السلام اس کی گفتگو سن کر مسکرانے لگے اور دونوں کو بلا کر نر سے پوچھا کہ جو کچھ تم کہہ رہے تھے کیا اسے کرنے کے لئے تمہارے اندر طاقت ہے؟ تو اس نرچڑیا نے عرض کیا ۔

اے اللہ کے نبی علیہ السلام! میرے اندر اتنی طاقت تو نہیں ہے

لیکن (پھر بھی میں نے اپنے محبوب سے وہ جملہ اس لئے کہا کہ) بعض اوقات اپنے محبوب کے سامنے اپنی بڑائی کرنی پڑتی ہے.

اور خود کو (کمالات) سے آراستہ کر کے پیش کرنا پڑتا ہے اور چاہنے والا عاشق (اپنی محبت کے اظہار میں جو کچھ کہتا ہے، اس پر اسے ملامت نہیں کی جاتی۔

یہ سن کرجناب سلیمان علیہ السلام نے اسکی مادہ سے کہا کہ جب یہ تجھ سے محبت کرتا ہے

تو تم اسکی بات کیوں نہیں مانتی؟مادہ چڑیا کہنے لگی۔

اے خدا کے نبی ؑ ! یہ مجھ سے محبت نہیں کرتا، صرف باتیں بناتا ہے، اسے میرے ساتھ ساتھ ایک اور چڑیا سے بھی محبت ہے ۔

مادہ چڑیا کی یہ بات سن کر جناب سلیمان علیہ السلام کے دل پر بہت اثر ہوا، وہ بہت شدت سے روئے،

پھر چالیس دن تک لوگوں سے ملاقات نہیں کی۔ (مسلسل عبادت کرتے رہے)
اور خدا سے دعا کرتے رہے کہ ان کے دل کو اپنی محبت سے اسی طرح بھر دے کہ اس کی محبت کے ساتھ کسی اور کی محبت کی آمیزش نہ ہو۔

جب ایک ادنیٰ سی چڑی اپنی محبت میں ملاوٹ نہیں برداشت کرتی

تو سوچے رب کائنات آپ کی محبت میں ہزاروں ملاوٹوں کے باوجود آپ کی محبت کو قبول کر لیتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *