احسان کرو تو خاندانی شخص پر کرو

مشہور ہو گئے وہ مجھے بد نام کرتے کرتے

احسان کرو تو خاندانی شخص پر کرو

جن لوگوں کو کل تک ان کے محلوں میں کوئی شخص نہیں جانتا تھا میرے ساتھ چل کر اب آسمان کے تارے بنے پھرتے ہیں اور مجھے ہی کہتے ہیں کہ آپ کو کیا پتا

جن لوگوں نے کشف المحجوب حضرت داتا گنج بخش ہجویری صاحب کی کتاب سے شیر اور چوہے کا واقعہ پڑا ہے ان کو میری سمجھ بڑی آسانی سے آ جائے گی جنہوں نے نہیں پڑھا ان کو شاید وہ پورا واقعہ ہی بتانا پڑے گا خون کے بارے میں میں وہ کہانی اس کالم کے آخر میں لکھوں گا وہ لوگ پڑھ سکیں جنہوں نے وہ کہانی کبھی نہیں سنی کہ نسلی لوگ اور بد نسلے لوگوں میں کیا فرق ہوتا ہے اور خاندانی لوگوں پر احسان کرو تو آپ کو اس کا اجر بھی ضرور ملتا ہے اگر بد نسلے لوگوں پر احسان کرو گے تو آپ کو کو اس کا خمارا ضرور بھرنا پڑے گا

میرے ساتھی جنہوں نے میرے ساتھ زندگی کا سفر شروع کیا تھا آج دنیا بھر میں اہم عہدوں پر مختلف ممالک اور پاکستان خاص طور پر شامل ہیں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ان کی موجودگی میں ہمیشہ ایک ہی چیز کا احساس ہوتا ہے کہ کسی خاندانی انسان پر احسان کرو یا اسے صحیح راستہ دکھاؤ تو زندگی بھر اس کا احساس رکھتا ہے لیکن بدقسمتی کے ساتھ معاشرے میں کچھ غیر خاندانی بد نسلے لوگ بھی ہوتے ہیں ہیں ان میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا نام لوں تو شاید اپنا چہرہ چھپانے کے لیے جگہ نہ ملے جن کو جنہیں کل تک کوئی جانتا نہیں تھا اس موقع پر وہ شعر ہے کہ

میرے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھر کے صنم

آج بت خانے میں بھگوان بنے بیٹھے ہیں

جن لوگوں کو پہچان جن لوگوں کے تعلقات ان کی شناخت میرے نام کی وجہ سے ہوئی جنہیں کل تک اپنے محلے میں کوئی نہیں جانتا تھا آج وہ محفل کی جان بنے پھرتے ہیں خوشی ہے لوگوں سے تعلقات بنانا میں نے سکھایا میرا نام استعمال کیا ان لوگوں نے اور آج وہ مجھ کو ہی بتاتے کہ آپ کو کچھ نہیں پتا ہم آپ سے بہتر ہیں سوچتا ہوں کہ ان لوگوں نے مجھ سے کیا حاصل کیا میں نے تو انہیں احسان فراموشی کبھی نہیں سکھائی میں نے تو اپنے تمام تر تجربات کچھ ہی دنوں میں دے دیئے لیکن بات وہی آجاتی ہے داتا گنج بخش ہجویری صاحب کی احسان کرو تو کسی خاندانی شخص بھی کرو برسٹل میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو کل تک کوئی شخص جانتا نہیں تھا میرے ساتھ چل کے میرا نام استعمال کر کے میرے ہی تعلقات کو استعمال کرکے اپنا نام بنایا شاید ان لوگوں کا یہ احساس نہیں

کہ ان کے رویے ان کے خاندان اور ان کے خون کی پہچان ضرور دیتے ہیں

Part story

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک باز شکار کی تلاش میں اڑتا پھر رہا تھا

اچانک اس کی نظر نیچے پڑی تو دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ ایک شیر ایک بکری کو اپنی پشت پر بیٹھا کر سیر کروا رہا ہے اور تازہ تازہ گھاس بکری کو خود کھلا رہا ہے بکری بڑے مزے سے بنا ڈرے شیر کی سواری سے لطف اندوز ہو رہی ہے

ماجرا حیران کن تھا باز نے اپنی حیرانی دور کرنے کا فیصلہ کر لیا

جب شیر بکری کو اتار کر ادھر ادھر ہوا تو باز بکری کے پاس آیا اور سوال کیا بی بکری یہ کیا ماجرا ہے ؟؟

شیر تو تمہارا سب سے بڑا دشمن ہے مگر وہ تمہیں اتنا پیار کیوں دکھا رہا ہے

بکری مسکرائی اور بتایا کہ ایک دفعہ دریا میں سیلاب آیا اور بہت سے جانور بہہ گئے ان میں یہ شیر بھی تھا جو اس وقت ایک چھوٹا بچہ تھا اور ڈوبنے کے قریب تھا مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے اسے بچالیا اس وقت سے یہ میرے ساتھ ہے اور میرا دودھ پی کر جوان ہوا ہے

اب یہ مجھے اپنی ماں سمجھتا ہے اور میرے اس احسان کا بدلہ اس طرح پیار سے ادا کر رہاہے

جنگل کے کسی جانورکی مجال نہیں جو مجھے غلط نگاہ سے دیکھے یہ اسے چیر پھاڑ دیتا ہے جو مجھے تنگ کرنے کی کو شش کرے

باز نے حیران ہو کر پوچھا کی بی بکر ی کیا احسان کرنا اتنی اچھی بات ہے بکری بولی بلکل بہت اچھی بات ہے احسان کرنا مگر احسان بھی دیکھ کرنا چاہئیے ابھی بات ہو ہی رہی تھی کہ شیر آگیا اور باز پوری بات سنے بغیر اڑ گیا

کچھ دن گزرے باز نے ایک چوہے کو دیکھا جو برفیلے پانی میں ڈوب رہا تھا باز کو بکری کی بات یاد آگئی اور تیزی سے نیچے آکر چوہے کو پانی سے نکال لیا چوہا سردی سے مرنے کے قریب تھا باز اسے ایک چٹان پر لے گیا اور اتنے پروں سے ڈھانپ لیا تاکہ چوہے کو گرمی ملے اور وہ ٹھیک ہو جائے

اس دوران باز کی آنکھ لگ گئی اور چوہے کو ہوش آ گیا اور چوہے نے باز کے سارے پر کتر ڈالے اور خود نو دو گیارہ ہو گیا باز کی آنکھ کھلی تو حالت دیکھ کر ہوش اڑ گئی باز کسی ناکسی طرح گرتا پڑتا غصے کی حالت میں بکری کے پاس پہنچا اور سارا ماجرا بیان کیا

بکری بولی تم نے میرے پوری بات نہیں سنی تھی اور اڑ گئے تھے میں نے آخر میں کہا تھا احسان اچھی چیز ہے مگر دیکھ کر کرنا چاہئیے میں نے ایک شیر پر احسان کیا تھا جو جنگل کا بادشاہ ہے

بہادر اور طاقتور ہے اعلی ظرف ہے اور اس نے میرے احسان کا بدلہ بھی اعلی ظرفی سے دیا

تم نے چوہے پر احسان کیا جو ایک کم ظرف جانور ہے سو اس نے بدلہ بھی کم ظرفی سے دیا

سو یاد رکھو احسان کرو مگر بدلے کی امید صرف اعلی ظرف سے رکھو کم ظرف سوائے کمینگی کے اور کچھ نہیں دے سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *