دنیا بھر میں مسلمان آج مجموعی طور پر کیوں ناکام ہے رانا بشارت علی خاں

تحریر : رانا بشارت علی خانہر مسلمان کی طرح مجھے بھی ایک سوال ہمیشہ تکلیف دے محسوس ہوتا ہے کہ ہم دنیا بھر میں مسلمان آج مجموعی طور پر کیوں ناکام ہے ان ناکامیوں کی بہت سی وجوہات ہیں ان وجوہات میں یہ بھی شامل ہے کہ مسلمانوں نے سب سے زیادہ ہمیشہ مسلمانوں کو ہی نقصان دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت اہم ہے کہ مسلمان ممالک نے اپنے آپ کو بدلتی دنیا کے ساتھ نہیں بدلا اور آج بھی ہم ترقی پذیر ممالک میں اس لئے کہلاتے ہیں کہ تعلیم ریسرچ معیشت ُُطا قت اور باقی دنیا کے مقابلے میں ہم بہت پیچھے ہیں نوکیا کمپنی کی تباہی کی سب سے بڑی بنیادی ہوئی تھی کہ دنیا بدل رہی تھی اور اپنے آپ کو نہیں بدلا اس لئے ایک دس سال سے زیادہ کامیاب کمپنی کو بند ہونا پڑا اور یہی مثال مسلم ممالک میں بھی ہے کہ ترقی کے زاویے ہیں ہم نے انہیں کبھی اپنا یا نہیں اور جو زوال کے سبب بنتے ہیں ہم نے انہیں کبھی بدلنے کی کوشش نہیں کی
زاول کی تین وجوہات اسلامی دنیا تیل کی دولت سے مالامال اور دنیا میں 57 ممالک ہونے کے باوجود آج دنیا بھر کے مسلم ممالک کی عراق افغانستان برما کشمیر فلسطین اور بوسنیا کی صورتحال پر کیوں خاموش ہیں یہ سوال آج دنیا کے ہر شخص کی زبان پر ہے، انسان کی دس ہزار سالہ تاریخ میں جس قوم نے بھی ترقی کی اس میں تین خوبیاں تھیں وہ علم میں دوسری قوموں سے بدتر تھی اس کی معیشت مضبوط تھیں اور وہ باقی قوموں سے طاقتور تھی ترقی کا یہ فارمولا آج تک دنیا میں کارفرما ہے لیکن افسوس اسلامی ممالک میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں اس وقت دنیا میں ایک ارب 80 کروڑ 62 لاکھ 35 ہزار چار سو ستر مسلمان ہے دنیا کا ہر پانچواں شخص مسلمان ہے دنیا میں ایک ہندو اور بدھ کے مقابلے میں دو مسلمان اور ایک یہودی کے مقابلے میں 135مسلمان ہیں دنیا میں 61 اسلامی ممالک ہیں ان میں سے 57 او آئی سی کے رکن ہے لیکن یہ دنیا کی تیسری بڑی قوت ہونے کے باوجود انتہائی کمزور اور بے بس ہیں جو اس کا جواب ہمیں ترقی کے تین بڑے اصول دنیا میں ترقی کا پہلا اصول علم ہے اس وقت پوری اسلامی دنیا میں صرف 500 یونیورسٹی ہے یونیورسٹی و کو اگر ہم مسلمانوں کی مجموعی تعداد پر تقسیم کریں تو ایک یونیورسٹی ایک لاکھ مسلمان نوجوانوں کے اتی ہے جبکہ اسکے مقابلے میں صرف امریکہ میں 5758 کئی راستے ہیں اور ٹوکیو شہر میں 1070 یونیورسٹی عیسائی دنیا کے چالیس فیصد نوجوان یونسٹی میں داخل ہوتے ہی اسلامی دنیا کے صرف دو فیصد نوجوان یونیورسٹی تک پہنچ پاتے ہیں اسلامی دنیا میں 21 لاکھ لوگوں میں سے صرف 230 لوگوں کو سائنس کا علم ہوتا ہے جبکہ امریکہ کے دس لاکھ شہریوں میں سے چار ہزار اور جاپان کے پانچ ہزار شہری سائنسدان ہوتے ہیں پوری عرب دنیا میں صرف 35 ہزار فل ٹائم سرچ اسکالرز ہیں جبکہ صرف امریکہ میں ان کی تعداد 22 لاکھ ہے اور اسلامی دنیا اپنے جی ڈی پی کا صرف اعشاریہ دو فیصد ریسرچ پر خرچ کردی ہے جبکہ عیسائی دنیا اپنی آمدنی کا پانچ فیصد حصہ تحقیقات علم پر لگاتی ہے اس وقت دنیا میں 200 بڑی یونیورسٹیاں ہیں ان200 یونیورسٹیاں میں سے 54 امریکہ 24 برطانیہ 17 آسٹریلیا 10 چینن 10 جاپان 9 فرانس جرمنی اور کینیڈا اور 7 سوئزرلینڈ میں ہیں ان200 یونیورسٹیز میں اسلامی دنیا کی صرف ایک یونیورسٹی ہے جبکہ اس فہرست میں بھارت کی 4 یونیورسٹی آتی ہے اگر ہم اس فہرست کا ذرا سا کھڑا جائزہ لیں تو دنیا کی پہلی 20 یونیورسٹیاں امریکہ میں ہے کمپیوٹر کے پہلے دس بڑے ادارے امریکہ میں ہیں اور دنیا کی 30 فیصد غیر ملکی طالب علم امریکہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں پوری دنیا میں امریکہ اعلی تعلیم پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرتا ہے امریکہ اپنے جی ڈی پی کا دو اعشاریہ چھ فیصد ہائرایجوکیشن پ صادق آتا ہے جبکہ اسکے مقابلے میں یورپ 1.2 و اور جاپان 1.1 فیصد خرچ کرتے ہیں امریکا ٹیکنالوجی اور ایجادات میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتا ہے اس کی کمپنیاں تحقیق پر دنیا میں سب سے زیادہ رقم خرچ کرتی ہے امریکہ تحقیقی اداروں کے معیار میں سب سے آگے ہے اور اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ نوبل انعام یافتہ سائنسدان امریکہ میں ہے چین اور بھارت علم اور ٹیکنالوجی میں نئی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ سن 2045 میں امریکہ کی جگہ لے لے گا اس کی وجہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ہے چین میں اس وقت 9080 بھارت میں 8460 یونیورسٹیاں ہیں یہ دونوں ملک ہر سال نو لاکھ 50 ہزار انجینئر پیدا کرتے ہیں اس کے مقابلے میں امریکہ میں ہر سال صرف 70 ہزار انجینئر مارکیٹ میں آتے ہیں اس وقت دنیا میں ایک سو بیس کیمیکل پلانٹس بن رہے ہیں ان میں سے 50 چین میں ہے لہذا آپ دیکھ لیجئے اس وقت حرب وہ ملک ترقی یافتہ ہے جو علم یونسٹی اور شرح خواندگی میں دنیا سے آگے ہے اور ہر وہ ملک پسماندہ ہے جو علم میں پیچھے ہے اور بدقسمتی سے اسلامی دنیا اس شعبے میں دنیا میں سب سے پیچھے ہے دوسرا اصول کاشت ہوتی ہے اکثر اسلامی ممالک کا مجموعی جی ٹی پی سے دو ٹریلین ڈالر ہے جبکہ امریکہ صرف مصنوعات اور خدمات کے شعبے میں بارہ ٹریلین کماتا ہے ابھی تک صرف ایک شہر لاس ویگاس کی معیشت تیرا ٹریلین ڈالر ہے
امریکہ کیwall street 20 ٹریلین ڈالر ہے ہیں صرف کوکا کولا کمپنی کے نام کی قیمت 97 ارب ڈالر ہے اس وقت 36 ہزار ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں ان میں سے پچیس ہزار کا تعلق امریکا سے ہے دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے 12 کا تعلق امریکا سے ہے دنیا کی 52 فیصد فیکٹریاں عیسائی دنیا میں ہے بلکہ دنیا کی 70 فیصد صنعتوں کے مالک عیسائی اور یہودی ہیں دنیا کی دس ہزار بڑی ایجادات میں سے چھ ہزار ایک سو تین ایجادات امریکی جبکہ آٹھ ہزار تین سو پندرہ ایجادات عیسائیوں اور یہودیوں نے کی ہے جتنی رقم اسلامی دنیا اپنا تیل بیچ کر کماتی ہے امریکہ اور یورپ میں اتنی رقم کی شراب پچیتے ہیں
اسلامی ممالک کتنے پیسوں کا پٹرول بھیجتے ہیں اس سے زیادہ امریکہ کے صرف تین برگر بنانے والی کمپنیوں کے ٹرن اوور ہے امریکہ سروسز کے شعبے کی آمدنی پوری اسلا می دنیا کی مجموعیgdp آمدن سے زیادہ ہیںدنیا بھر کے اسلامک ممالک سالانہ جتنی ایکسپورٹ سے پیسہ کماتے ہیں اس سے زیادہ ہالینڈ صرف پھول بیچ کر ایک سال میں کما لیتا ہے
اب آجائیں طاقت کے اصل کتاب ذرا اپنے دل سے پوچھ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کون ہے کس ملک کے پاس بڑی فوج ہے کس کا دفاعی بجٹ زیادہ ہے کس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار ہے کس کے پاس زیادہ ہے کس کے طیارے پوری دنیا کا چکر لگا سکتے ہیں وہ کونسا ملک ہے جو اڑتے ہوئے طیاروں میں پیٹرول کر سکتا ہے کس کے پاس توپیں ٹینک ہیں جو لیزر گائیڈڈ سے ہزاروں میل دور ہی بتا سکتا ہے کس کے مصنوعی سیارے دنیا کی ایک ایک انچ پر نظریں گاڑے بیٹھے ہیں کون ہے جو ہزاروں میل دور بیٹھ کر آپ کے چشمے کا نمبر معلوم کرسکتا ہے اور کون ہے جو دنیا کا حق کمپیوٹر اور ہر ٹیلیفون مانیٹر کر رہا ہے یقینا آپ کا جواب ہوگا امریکا آپ کی بات درست ہے امریکا کے بعد پر تانیہ جرمنی فرانس اٹلی اور روس آتے ہیں اور اس کے بعد چین اور بھارت کا نمبر آتا ہے بلکہ بدقسمتی سے ایک بھی اسلامی ملک دفاعی ساز و سامان بنانے والے ممالک کی فہرست میں شامل نہیں پورے عالم اسلام میں پاکستان واحد ملک ہے جس کے پاس ایٹم بم ہے اسلامی بلاق کے کسی ملک میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ کسی یورپی ملک کے بغیر اپنا دفاع کر سگے آپ پوری اسلامی دنیا کی فوجی تنصیبات اور فوجی اثاثوں کا تجزیہ کر لی ان کے پاس رائفل سے لے کر آج تک امریکہ اور یورپ کے ہونگے وہ رائفلوں کی گولیاں تک کسی عیسائی ملک سے لے رہے ہوں گے یہ ہے اسلامی دنیا کی صورت حال یہ ہے ہمارے زوال کی اصل وجوہات پر قدرت کا قانون ہے کہ جب بھی کوئی چیز بلندی سے گرتی ہے تو وہ ہمیشہ نیچے آتی ہے قدرت نے آج تک دنیا کے کسی شخص کسی اور کے لئے اپلائی قانون تبدیل نہیں کیا دنیا میں کامیابی اور فتح کے لیے خود طاقتور ثابت کرنا پڑتا ہے یہ بھی قدرت کا قانون ہے قدرت نے اپنا یہ قانون اپنے انبیائے کرام کے لیے تبدیل نہیں کیا تھا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ہر نبی کو میدان جنگ میں اپنی طاقت ثابت کرنی پڑی تھی اور وقت کے ہر دور میں صرف وہی تہذیب قائم رہیں جس کے پاس فوج علم اور ٹیکنالوجی تھی لیکن بدقسمتی سے اس وقت عالم اسلام ان تینوں شعبوں میں بہت پیچھے ہے بدقسمتی سے ہم سب زنگ آلود تلوار لے کر میزائلوں کے سامنے صف آرا ہے ہم سب کی دلوں میں جہالت کے طوق پہنے ہوئے ہیں اور ہم سب کشکول لے کر غیروں کے دروازوں پر کھڑے ہیں اور اس کے بعد اللہ کی نصرت کا انتظار کر رہے ہیں اور ہمارے لئے اپنے سارے اصول بدل دے ہمارا خیال ہے اللہ تعالی نے جو نظام اپنے نبیوں کے لیے تبدیل نہیں کیا تھا وہ ہمارے لئے بدل دے گا ہم کس قدر سادا لوگ ہیں ہم ڈیڑھ ارب لوگ جو اکیسویں صدی میں ایک نئی بندوق ایجاد نہیں کر سکتے جو عالمی سطح کی یونیورسٹی نہیں بنا سکتے اور جو انٹرنیشنل ایک بھی جدید ہوسپٹل حتیٰ کہ ایک انٹرنیشنل برگر تک نہیں بنا سکتے جو اپنا تیل بیچنے کے لیے عیسائی کمپنیوں کے محتاج ہیں جو قرآن مجید تک یہودیوں کے پریس پر عیسائیوں کی روشنی سے چھاپتے ہیں اور جن کے خانہ کعبہ میں یہودی کمپنی کا ایئرکنڈیشن سسٹم لگا ہے ان لوگوں کا کیا خیال ہے اللہ تعالی ان کے لیے اپنا نظام بدل دے گا کیا یہ ممکن ہے ہم لوگ کتنے بے وقوف ہیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم رسول اللہ اور اللہ کو بھی دھوکا دے دیں گے
ہم یہ ضرور کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں غیروں نے آگے نہیں بڑھنے دیا لیکن یہ بات سراسر غلط ہے ہم نے خود کبھی ریسرچ ایجوکیشن اورٹیکنالوجی پر کام نہیں کیا ہم سر درد کی گولی استعمال سے لے کر سوئیں گے دھاگے تک غیروں کے محتاج ہیں جب ہم تعلیم کو اپنا نصب العین سمجھ لیں گے اور ہم مشترکہ جدوجہد کریں گے اور اپنی عزت نفس کا لحاظ کرنا شروع کریں گے تو انشاء اللہ وہ وقت ضرور آئے گا کہ مسلمان دوبارہ دنیا میں عروج حاصل کرسکیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *