کیا پاکستان پر ٹوٹے گا

کیا پاکستان پر ٹوٹے گا

پاکستان کو توڑنے کے خلاف دنیا بھر میں سازش ہو رہی ہے

ان بھارتیوں نے مجھے دیکھ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا

اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر کشمیریوں کے لئے مظاہرہ کرنے کے بعد میں اور میرے ساتھی ہوٹل جو فرانس کی قریب تھا اس کی طرف جا رہے تھے کہ وہاں راستے پر ایک ریسٹورینٹ میں کچھ پاکستانی فیملیز بیٹھی تھی میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میں نے کبھی بھی اس علاقے میں پاکستانی نہیں دیکھے ابھی ہم جا ہی رہے تھے کہ کچھ پاکستانیوں کا گروپ ہمیں دیکھ کر بھاگا بھاگا کھانا چھوڑ کر چلا اگیا جب ان میں سے ایک شخص نے میرا نام لے کر پکارا تو میں نے رک کر اسے دیکھا کہ میں نے اپنے ساتھی کو بتایا کہ آفتاب ایس شخص کو نہیں جانتا لیکن وہ اتنی محبت اور پیار سے میری طرف بڑھ رہا تھا کہ میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ اس کا نام پوچھ سکوں لیکن انہوں نے حسب عادت میرے کام کی تعریف کی اور کہا کہ میں جو کام کرتا ہوں اس پر ہے اور ان میں سے کچھ ساتھیوں نے میرے ساتھ سیلفی لی اور مجھے کھانے کی دعوت دی جو میں نے نے نامنظور کی کیونکہ میں کھانا کھا چکا تھا اور میں ان لوگوں کو کھاتے ہوئے ڈسٹرب نہیں کرنا چاہ رہا تھا پھر ان لوگوں نے مجھ سے میرا حال پوچھا اور یہ بھی پوچھا کہ میں کتنے دن قیام پذیر ہوں میں وہ جانتے تھے کہ میں اقوام متحدہ کے دفتر میں کام کرتا ہوں آگے چلتا ہوں اور اپنے ہوٹل میں قیام پر پہنچتا ہو تو وہاں اور پاکستانی تھے جیسے ہی میں رسپشن پر پہنچا کہ خوبصورت پاکستانی لڑکی وہاں پر کھڑی تھی میں نے اسے سلام دعا لیا اور اس کا حال احوال پوچھا تو اس لڑکی نے بھی بڑے خوش گفتگو ہے میرا حال پوچھا اسے دیر میں میں لوبی میں جاکر بیٹھ گیا تو وہاں پر کچھ اور پاکستانی اپنے کمروں میں چیک آن کرنے کے لئے انتظار میں تھے

جب ان لوگوں سے تعارف ہوا تو احساس ہوا کہ یہ لوگ پورے یورپ سے اکٹھے ہوئے ہیں جن میں کچھ لوگ برطانیہ جرمنی فرانس اٹلی اور یورپ کے باقی ممالک سے ہیں اور یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ یہ فیملیز کے ساتھ ہے لیکن جب ہم گفتگو کر رہے تھے تو پیچھے سے وہی خوبصورت لڑکی آئی اور اس نے اپنے ساتھیوں کے کان میں کوئی بات کی کہ اچانک ان تمام لوگوں کا رویہ میری طرف تبدیل ہوگیا جوابھی خوشگوار موڈ میں بات کر رہے تھے اور وہ لوگ میری تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے وہ سب آہستہ آہستہ مجھے چھوڑ کر اپنے کمرے میں جانے لگے میرے لئے بڑا عجیب سا احساس تھا اتنی دیر میں میرے ساتھی آفتاب فیروز نے کہا بشارت یہ معاملات کچھ خراب لگتے ہیں خیر میں جستجو کے اسی تجسس میں بیٹھا تھا کہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے راستے میں مجھے روک کر سلام لیا تھا کیا لابی میں بڑی خوشی سے میری طرف آ رہے تھے کہ وہ خوبصورت لڑکی آگے بڑھی اور ان کے ان کو کوئی بات کی وہ سوائے میری طرف آنے کے وہ اپنے ہوٹلوں اپنے کمرے میں واپس چلے گئے میرے لیے یہ بات عجب تھی خیر میں نے آفتاب فیروز کو کہا کہ تم اپنے کمرے میں جاؤ میں بھی بیٹھوں گا یہ کون ہے اور میرے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کر رہے ہیں یہ میں جان کر آؤں گا

لوبی میں بیٹھا ہوا انہی لوگوں کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ لوگ لوبی کے ساتھ ہی ایک حال میں اکٹھا ہونا شروع ہوگئے گئے اتنی دیر میں مجھے یہ تو علم ہو گیا تھا یہ لوگ کرسچن ہے اور پورے یورپ سے یہاں پر کسی احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں لیکن احتجاج کن کے خلاف اس کا مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا

میں بھی اس ہوٹل میں اس حال میں چلا گیا جیسے ہی ہال کے اندر داخل ہوا اور تمام پاکستانی کرسچئیین مجھے دیکھ کر پریشان ہو گئے اور مجھے احساس ہو گیا کہ میرا اندر آنا ان لوگوں کو پسند نہیں تھا اتنی دیر میں گچھ لڑکے میری طرف بڑھے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ بھائی آپ اس ہال کے اندر نہیں آسکتے آپ باہر تشریف لے جائیں بھائی خیر میں نے ان سے پوچھا کہ یہ تمام پاکستانی ہے اور میں بھی پاکستانی ہوں میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کیا کر رہے ہیں لیکن انہوں نے مجھے اندر آنے کی اجازت نہ دی اور خیر ایک غیر غیر مہذبانہ انداز سے مجھے حال سے نکلنے کی درخواست کی

فورا میرے دماغ کی گھنٹی بجی میں نے اقوام متحدہ کی لسٹ چیک کی آنے والے دنوں میں کونسے احتجاج ہو رہے ہیں مجھے فوراً سمجھ آ گئی کہ یہ لوگ پاکستانی کرسچن ہے جو یورپ میں رہتے ہیں اور یہ پاکستان کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے وہاں پر اکٹھے ہوئے میں نے کچھ اقوام متحدہ میں بھارتی لوگوں کو جو کام کرتے ہیں ان کو ہوٹل میں آتے ہوئے دیکھا ان بھارتیوں نے مجھے دیکھ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا اور میں بھی ان کو دیکھ کر ساری کہانی سمجھ چکا تھا یہ وہی بھارتی تھے جو اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے مختلف اداروں کے سامنے پاکستان کو توڑنے کی باتیں کرتے ہیں اور اس کے لئے کچھ معصوم پاکستانیوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں میں بیٹھا ہوا تھا لیکن کچھ دیر بعد دوبارہ میرے اردگرد اکٹھے ہوئے اور میں نے ان کے ساتھ بات کرنا شروع کر دی پاکستان کے خلاف احتجاج کیوں کر رہے ہیں پاکستان تو ہمارا اپنا ملک ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے خلاف نہیں

پاکستان میں جو کرسچین کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے ہم ان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ایک آزاد ملک پاکستان کے اندر چاہتے ہیں ان کے ساتھ طویل بحث و مباحثہ ہوا لیکن وہ اپنی بات پر تھے یہ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو توڑنے کے خلاف دنیا بھر میں سازش ہو رہی ہے لیکن بدقسمتی کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات اور سفارتی ادارے مجھے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں یہ وہی ہو رہا ہے جو بنگلہ دیش ٹوٹنے سے پہلے ہو رہا تھا خدارا پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے اداروں کو اس طرح کے لوگوں کے خلاف عملی طور پر میدان عمل میں آنا ہوگا اگر دن ان لوگوں نے 400 سے 500 لوگ پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر مظاہرہ کر رہے تھے اور میں اب بھی سوچنے پر مجبور ہو کہ پاکستان کے کے سفارتی اہلکار صرف پاکستان کو کو پاکستان سے پیسے کھانے کے لیے ہیں ان کا میدان عمل میں کوئی اقدام نظر نہیں آتا

یہاں ناظرین کو یہ بھی بتا دو کہ اقوام متحدہ اور دنیا بھر میں پاکستان کو توڑنے کے لیے سندھ کی آزادی بلوچستان کی آزادی پاکستان میں اقلیتوں کی آزادی کے لیے انڈیا اور اسرائیل کے ادارے اربوں روپے خرچ کرتے ہیں اور پاکستان کے سفارت کار صرف آٹھ ماہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد واپس اپنے ملک کو چلے جاتے

رانا بشارت علی خاں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *