کشمیری مسلمان پاکستانی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ رانا بشارت علی خاں مبصر بین الاقوامی انسانی حقوق

کشمیری مسلمان پاکستانی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

مبصر بین الاقوامی انسانی حقوق
رانا بشارت علی خاں

ہمیں مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے واضح طور پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اس کے لیے پاکستانی وزارت خارجہ کو متحرک کرنے کی سخت ضرورت ہے جو عالمی برادری کو باور کروائے جب تک مسلئہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا اس وقت تک خطہ میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ان خیالات کا اظہار رانا بشارت خاں نے فون پر بات کرتے ہوئے کیا۔
کشمیریوں پر بھارتی سرکار کا ظلم و بربریت عالمی برادری کے سامنے ہے مودوی سرکار کی ہٹ دھرمی و بے شرمی اپنی انتہاء کو چھو رہی ہے آئے روز نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور دنیائے تاریخ کے سب سے لمبے کرفیو اور محاسرے کی وجہ سے کشمیری مسلمان حیوانوں سے برتر زندگئی گزارنے پر مجبور کیے جا رہے ہیں عالمی برادری اس کا نوٹس لے کر سب سے پہلے کشمیر سے کرفیو کوختم کروائے اور اسلامی ممالک پاکستانی حکومت کا مکمل ساتھ دے اور مل کر مسلئہ کشمیر کو حل کروائے تکہ خطہ میں امن کی صورتحال قائم رہ سکے۔ رانا بشارت نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزراء کی ٹاک شو میں بیٹھ کر ایٹمی جنگ کی باتیں کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہے انکو چاہیے اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر کریں اور دنیا کے سامنے اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والی مودی سرکار کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرے۔
پاکستان کو چاہیے اپنے ہمسایہ مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنائے۔
ایٹمی جنگ کی باتیں کرنا ملک کے مفاد میں نہیں، اس سے گریز کرنا چاہیے، پاکستان بین الاقوامی برادری کا حصہ ہے اور دوست ممالک ہم سے ذمہ دارانہ رویے کی توقع کرتے ہیں۔
پائیدار امن کے لیے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات بہت ضروری ہیں
پاکستان کی حکومت کو چاہیے اپنے تعلقات افغانستان کے ساتھ مضبوط کرے اور بھارتی سرکار کی افغانستان میں مداخلت کے مؤثر اقدامات کرے تکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف اپنے گھناؤنے عزائم پورے نا کر سکے۔
رانا بشارت نے کہا پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں اور عالمی برادری کو کشمیر کا مسلئہ کشمیریوں کی امنگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حل کروانا چاہیے اگر خدا نخواستہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو کئی ممالک اس کی لپیٹ میں آئیں گئیں جس کے نتیجہ میں خوفناک تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے عالمی برادری مسلئہ کشمیر کو حل کروائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *