پاکستان کے خلاف کام کرنے والے 270 اورگنائزیشن اور فیک ویب سائٹس رانا بشارت علی خان کی کوششوں کے بعد اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا گیا

پاکستان کی طرف اٹھنے والے ہاتھوں کو کاٹ ڈالوں گا

اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف سازشوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر کے دم لونگا – رانا بشارت علی خا ں

پاکستان کے خلاف کام کرنے والے 270 اورگنائزیشن اور فیک ویب سائٹس رانا بشارت علی خان کی کوششوں کے بعد اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا گیا

رانا بشارت علی کے خلاف انڈین اورگنائزیشن نے اقوام متحدہ میں ان کی رکنیت ختم کرنے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن جاری کر رکھی ہے

رانا بشارت علی خان نے پاکستان کے خلاف کام کرنے والے 270 اورگنائزیشن دنیا بھر کے سامنے لانے میں اہم رول ادا کیا اور ان ہی کی کاوشوں سے یہ تمام ویب سائٹس اور اورگنائزیشن نہ صرف اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی بلیک لسٹ میں شامل ہو سکیں ان کے خلاف انڈین لوگوں نے اقوام متحدہ میں ان کی رکنیت ختم کرنے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن جاری کر رکھی ہے جس میں رانا بشارت علی خان کو دہشت گرد قرار دے کر اس کی اقوام متحدہ کی رکنیت ختم کرنے کی وہ کو کو جاری کیا ہوا ہے اس کے علاوہ رانا بشارت علی خان کی کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں سخت گیر موقف کے بعد ان کے خلاف مختلف حربے استعمال کرکے ان کی کردار کشی اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مختلف قسم کی کی تفصیلات شائع

دنیا بھر میں میں 65 ممالک سے زیادہ 270 ویب سائٹیں اور اورگنائزیشن ہیں جو پاکستان کے خلاف غلط پروپیگنڈہ اور پاکستان کو توڑنے کے لیے لوگوں کو غلط انفرمیشن دتیئ ہیں ان ویب سائٹوں کا اصل مقصد پاکستان کو دنیا بھر میں بد نام اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور خاص طور پر پاکستان کے خارجی تعلقات اور پاکستان کی سیاحت کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں یہ اورگنائزیشن دنیا بھر میں خاص طور پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین اور دنیا بھر کے اہم اداروں کے سامنے اور ان کے اندر پاکستان کے خلاف ایسا پراپیگنڈہ کرتے ہیں جس سے دنیا بھر میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان دنیا بھر کے لوگوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے یہ دہشت گردوں کو پرموٹ کرتے ہیں اور دنیا میں دہشتگردی پھیلانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں ان تمام ویب سائٹوں اور اور اورگنائزیشن کا

ان تمام اورگنائزیشن کا اصل مقصد انڈیا کے نظریے کو پرموٹ کرنا اور پاکستان کی خارجہ اور سیاسی حیثیت کو دنیا بھر میں کمزور اور اور پاکستان کو توڑنا اور پاکستان کے خلاف سازشوں اور پاکستان کے خلاف غلط خبریں دینا ہے تاکہ دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کی نہ ہی عزت ہوسکے اور دنیا کے لوگ نہ ہی پاکستان میں سیاحت کے لئے اس کے یہ آرگنائزیشن اور ویب سائٹیں دنیا بھر میں وسیع تر نیٹ ورک کے ساتھ سالانا کروڑ ڈالر کرتی ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کوبدنام اور پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کا کام ہے

2016 ستمبر میں جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے باہر پاکستان مخالف احتجاج کا انعقاد کیا۔

اگلے سال جنیوا کی سڑکوں پر ’فری بلوچستان‘ کے پیغامات سمیت کئی ایسے پوسٹرز نظر آئے جن میں پاکستان کی اقلیتوں کی حمایت کے لیے پیغامات درج تھے اور ان پر ای او پی ایم کا نام درج تھا۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر بلوچستان کے حوالے سے مظاہرے کیے گئے اور آن لائن مہم چلائی گئی اور ان تمام مظاہروں کی بھرپور تشہیر اسی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے ایک میڈیا ادارے ’ٹائمز آف جنیوا‘ نے کی۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ ’وائس آف پاکستانی مائناریٹی‘ بھی اسی نیٹ ورک سے منسلک تنظیم ہے جو سوشل میڈیا اور جنیوا میں کافی فعال نظر آتی ہے۔

ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ای او پی ایم کی ہر ٹویٹ اور مہم کو ری ٹویٹ کرتے ہیں اور اکثر اُن افراد کو مخاطب کرتے ہیں جو اسلام دشمن خیالات رکھنے کے لیے مشہور ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس نیٹ ورک میں 250 سے زائد فیک ویب سائٹس سامنے آئیں جو پرانے اور غیر فعال یا جعلی نام والے اخبارات سے انڈین بیانیے کی حمایت والی خبریں شائع کر رہے تھے۔

انھی ویب سائٹس پر پاکستان مخالف مواد شائع کیا جاتا اور فیک این جی اوز کی جانب سے شروع کی گئی مختلف مہم کی خبریں ہوتیں تھیں۔

ان فیک ویب سائٹس میں سب سے زیادہ معروف ٹائمز آف جنیوا تھی جس میں خبروں کے علاوہ کئی ویڈیو انٹرویو تھے جن کا مقصد اقوام متحدہ کے عہدے داران کی توجہ مبذول کرنا تھا۔

.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *