حکومت کی طرف سے پانچ اگست کو کشمیریوں کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنا کشمیریوں کے ساتھ گھنائونا بے ہودہ مذاق ہے

حکومت کی طرف سے پانچ اگست کو کشمیریوں کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنا کشمیریوں کے ساتھ گھنائونا بے ہودہ مذاق ہے

حکومت کی سب سے بڑی ناکامی کشمیریوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہ کرنا ہے

آئی ایچ آر او او کی طرف سے اقوام متحدہ میں مبصر رانا بشارت علی خان اپنے خیالات کا اظہار کشمیر پر انٹرنیشنل ذوم کانفرنس میں کرتے ہوئے کہا کہ

معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کا ضامن بن

سکتا ہے

کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا بشارت علی خان نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے دنیا سے دوٹو گفتگو کرنے کی ضرورت

ہے

حکومت کی سب سے بڑی ناکامی کشمیریوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہ کرنا ہے

اگر انہیں کشمیریوں کو حکومت کی سربراہی میں استعمال کیا جاتا تو کشمیر کی آواز دنیا بھر کی آواز بن جاتے

کشمیر کے لئے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں محب وطن کشمیریوں کو استعمال کرکے کشمیر کی آواز کو دنیا بھر کے پلیٹ فارم تک پہنچایا جا سکتا ہے بدقسمتی موجودہ اور سابق حکومتوں نے کشمیر پر صرف بیان بازی اور سیاست کی ہے کشمیریوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے کشمیر کے نام پر سیاست کرنے والے نام نہاد سیاستدان ہیں جنہوں نے کشمیر کے نام پر اپنی سیاست چمکای

لیکن کشمیر کو کسی بھی طرح کا کوئی فائدہ پہنچانے میں ناکام رہے ہیں

پاکستان کو سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط ہونے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے

کمزور پاکستان کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہوئے دنیا میں جگہ رسائی کا سبب بنتا ہے

کبھی جمعہ کے دن خاموشی اور کبھی حکومت کا کشمیریوں کے لیے پانچ اگست کو ایک منٹ کی خاموشی کشمیریوں کی قربانیوں کے ساتھ انتہائی بھیانک نتائج سے زیادہ کچھ بھی نہیں

دنیا کی کوئی تاریخ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنے سے انقلاب لانے کی گواہی نہیں دتی

کشمیر کمیٹی کر نام پر کروڑوں روپے ہر سال ضائع کیے جاتے ہں

اس سے بہتر کشمیر کمیٹی میں کشمیری رہنماؤں اور محب وطن کشمیریوں کو ڈال کر اس کو دنیا بھر میں میں پھیلایا جاسکتا تھا

کشمیر کمیٹی کے موجودہ اور سابقہ چہروں نے سوائے تنخواہ بٹورنےاس کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا کے علاوہ کشمیر کاز کے لئے کچھ بھی نہیں

کشمیر کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے

بہتر سفارتکاری سے دنیا میں کشمیر کے مسلئے کو دنیا تک پہنچانے کے لیے اعلی سفارتکاروں اور تجربہ کار لوگوں کی ضرورت ہے

کشمیر کی آواز بلند کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا سٹیج فارسٹ سب سے بہترین ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی بالکل نہ ہونے کے برابر ہے ہم دنیا کو کشمیر کے مسئلے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں کشمیر ایک اخباری بیان تک رہ چکا ہے ایک مضبوط اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کا ضامن بن سکتا ہے

لاکھوں کشمیریوں کا خون ہمارے گریبانوں پر ہوگا ہماری یہ مجرمانہ خاموشی کشمیر کے لئے کوئی مددگار ثابت نہیں ہوسکتی ہے بتائے بجائے ایک انٹرنیشنل لیول کی سفارت کاروں کی جاتی دنیا بھر کے پاکستان میں نمائندوں کو بلایا جاتا اور کشمیر پر ہونے والے مظالم کے بارے میں آگاہی دی جاتی انٹرنیشنل لیول کی کانفرنس بلانے کی ضرورت ہے تا کہ کشمیر پر ہونے والے مظالم کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کیا جائے

کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا بشارت علی خان نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے دنیا سے دوٹو گفتگو کرنے کی ضرورت ہے

پاکستان کو سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط ہونے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے

کمزور پاکستان کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہوئے دنیا میں جگہ رسائی کا سبب بنتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *