برسٹل یونیورسٹی کی طرف سے راجل السلطان رانا بشارت علی خان کو برسٹل کے 100 مضبوط ترین لوگوں میں شامل کیا گیا


‏‎برسٹل یونیورسٹی اور سٹوڈنٹ یونین اور برسٹ 24/7 کی مشترکہ جدوجہد جنوری 2018 میں پانچ سو لوگوں کو شارٹ لسٹ کرنے کے بعد ان میں سے سو لوگوں کو برسٹل کے مضبوط ترین لوگوں میں شمار کرنے کا سارا کریڈٹ دس ججوں کو جاتا ہے جنہوں نے پانچ سو میں سے سو لوگوں کو برسٹل کے پاورفل ترین لوگوں میں شمار کیا اس میں ایک نام رانا بشارت علی خان کا ہے جو برسٹل کے سو مضبوط ترین لوگوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کو برسٹل کی یوتھ کے لئے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا رانا بشارت علی خان کو ہم انسانی حقوق اور بی ایم اے کمیونٹی کے لیے آواز اٹھانے پر برسٹل یونیورسٹی کی طرف سے جو مضبوط ترین لوگوں میں شامل کیا گیا رانا بشارت علی خان کے بارے میں برسٹل یونیورسٹی کی رائے یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی جدوجہد کے طور پر گزاری ہے جس میں کشمیر عراق افغانستان بوسنیا سریا برما کشمیر اور مختلف مسلم ممالک میں ہونے والی جنگ ظلم اور زیادتی کے خلاف برطانیہ یورپ اقوام متحدہ یورپی یونین اور دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد اور ان کے خلاف عملی اقدام اٹھانے پر اور یورپ بھر میں آواز بلند کرنا ہے خاص طور پر ان کی کاوش جو انہوں نے برما کے مسلمانوں کے لئے 2017 کی تھی بہت سراہا گیا جس میں ان کی سات دن کی محنت کے بعد لندن میں برما امبیسی کے سامنے چالیس ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی جس کے بعد جو 150 ملین پاؤنڈ کی سپورٹ برما کی آرمی کو دینی تھی اس کو نہ صرف بن کیا گیا بلکہ برما حکومت پر زور ڈالا گیا کہ وہ برما کے مسلمانوں کے بارے میں اپنے رویے کو درست کریں ورنہ ان پر عالمی پابندیاں نافذ کردی جائیں بشارت علی 40، پاکستانی نژاد مشہور برطانوی سماجی شخصیت، انسانی سرگرمی کے اسپیکر اور امن کارکن. 2007 کے بعد سے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تحریک برطانیہ اور یورپ کے صدر، طالب علم کی زندگی کے دوران وہ پاکستان مسلم طالب علم فیڈریشن (ایم ایس ایف) کے سینئر نائب صدر تھے، طالب علم کی زندگی میں انہوں نے نوجوانوں کے لئے پنجاب کے وزیر اعلی کی قیادت میں اور تعلیم اور پاکستان میں خاص طور پر کام کیا. مختلف تنظیموں میں وقت پر وقت کام کیا. خاص طور پر آئی ٹی اور تعلیم کے شعبے میں

2002 میں برطانیہ منتقل ہونے کے بعد رانا بشارت علی حال ہے اپنے شہر کمالیہ سے محبت ہو ایک عظیم مثال بنا دیں انہوں نے برطانیہ میں کمالیہ ہاؤس کے نام سے ایک اورگنائزیشن ٹائی نعقادکیا جس نے نہ صرف کمالیہ بلکہ دنیا بھر سے آنے والے خاص طور پر پاکستان سے آنے والے طالب علموں کو برطانیہ میں ہر قسم کی مدد فراہم کی اور آج سینکڑوں طالب علم کمالیہ ہاؤس کے ذریعے برطانیہ اور یورپ میں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں

2002 میں بشارت کراؤن کورٹ برسٹل کے جیوری ممبر منتخب ہوئے اور 2003 ء میں عراق کی جنگ کے خلاف برطانیہ میں ایک اہم احتجاج کا اہتمام کیا. انہوں نے برسٹل سٹی کونسل انتخابات 2005 اور 2007 میں حصہ لیا. اس کے علاوہ وہ مشرق وسطی کے رہائشی نیٹ ورک کے لئے 2004 ء کے نائب چیئرمین تھے اور لیبر یوتھ آفیسر جنوب مغرب 2005 اور یوتھ سفیر 2007 میں تھے. انہوں نے یونیورسل امن فیڈریشن کے ساتھ 2005 -2011 سے امن سفیر کے طور پر کام کیا اور 2013-15 سے اقوام متحدہ میں کی نمائندگی کی. سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ ن برطانیہ 2014 مسٹر بشارت نے اب بھی یورپ میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی رکھتا ہے، اس نے برمی مسلمانوں کے لئے اجتماعی شعور کو فروغ دینے کے لئے 16 ممالک کا دورہ کیا ہلال احمر پاکستان کی طرف سے برطانیہ یورپ میں کوآرڈینیٹر منتخب ہوئے انہوں نے فلسطینی، عراقی، برما اور شام کے حق میں مضبوط آواز بلند کی . رانا بشارت نے مختلف ممالک میں 73 سے زائد قومی اور بین الاقوامی کانفرنس میں حصہ لیا ہے. اور یورپ کے مضبوط مسلم رہنماؤں پر غور کیے جاتے ہیں.
وہ سماجی معاشرتی خدمات اور مسلم دنیا کے لئے امدادی کام میں بہت متحرک، تعلیم یافتہ سرگرم ہے.
رانا بشارت علی خان نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم سے بہت محبت کرتا ہے. لہذا بشارت علی خان نے صرف برطانیہ میں احتجاج نہیں کیا تھا بلکہ اس نے یورپی یونین کے اراکین سے ملاقات کی. اس سنگین مسئلہ کی اہمیت کو نمایاں کرکے. وہ مسلمانوں میں نمائندگی کر رہے تھے جس میں مظاہرین، مظاہروں اور 2007 ء میں یو ٹیوب اور گوگل کے خلاف کانفرنس منعقد ہوئے
2007
‎پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی خاطر رانا بشارت علی خان پاکستان
‎کے سابقہ وزیراعظم اور سابقہ وزیر اعلی میاں محمد نواز شریف کے ساتھ پاکستان میں جمہوریت کی جدوجہد اور جمہوریت کی بقا کے لیے برطانیہ سے پاکستان ان کے ساتھ دو دفعہ سفر کیا

2014-15رانا بشارت علی خان فلسطین کے لیے برسٹل کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے کیے جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی

اسرائیل کی ظلم اور بربریت جو فلسطین پر ہو رہی تھی اس پر جب دنیا کے سب سے بڑے ادارے بی بی سی نے صحیح نشریات جاری کرنا نہ شروع کی رانا بشارت اور ان کے ساتھیوں نے بی بی سی برسٹل کی بلڈنگ پر نہ صرف قبضہ کیا بلکہ وہ قبضہ اس وقت تک جاری رہا جب تک ہائی کورٹ نے اس قبضے کو ختم نہ کر دیا شاید یہ اپنی نوعیت کا دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے

آئرلینڈ گورمنٹ کے ساتھ مل کر شام کے پناہ گزینوں کو آئرلینڈ میں مستقل بنیادوں پر منتقل ہونے میں ریڈ کراس کے ساتھ مل کر مد د کی

رانا بشارت علی خان نے ثریا کے مسلمانوں کی آواز نہ صرف عالمی پلیٹ فارم پر اٹھائی بلکہ سریا میں جاکر مظلوم سیرین مہاجرین کی مدد کی
اور ان کے ساتھ ٹائم گزارا

رانا بشارت علی خان ترکی میں مقیم پاکستانی پناہ گزینوں کی آواز ترکی کے وزیر خارجہ وزیر داخلہ اور صدر طیب اردوان کے ساتھ ساتھ پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر داخلہ اور وزیراعظم پاکستان کے ساتھ معاملات کو اٹھایا اور پاکستان کے پناہ گزینوں کی ترکی میں واپسی کو آسان بنایا

‎رانا بشارت علی خان عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے والد صاحب اور اپنے خاندان سے ریاست میں لیا ہے اور اسی سلسلے میں 2018 میں برسٹل کی تاریخ میں پہلی دفعہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کی سالگرہ غیر مسلم کمیونٹی کے ساتھ برسٹل کے سٹی سنٹر میں سب کے ساتھ مل کر بنائی اور اس موقع پر سینکڑوں پھول تقسیم کئے گئے

رانا بشارت علی خان کی مسلمانوں کے لیے خدمات کے عوض شیخ بغداد شیخ عبدالقادر جیلانی کے مزار اور ان کے سجادہ نشین کی طرف سے راجل السلطان کے خطاب سے نوازا گیا جس کا مطلب ہے بہادر بادشاہ

رانا بشارت علی خان کشمیر کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے انسانی حقوق کی کانفرنس کی اوپننگ دن پر ایک مظاہرہ کا انعقاد کیا جس پر یورپ بھر سے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور یہ اقوام متحدہ کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ ہے جو کسی بھی اوپننگ سمینار کے موقع پر کیا گیا

دنیا بھر نے امن کی بقا کی خاطر اور انسانی زندگی کو بچانے کے لیے رانا بشارت علی خان ہے ایک اور بن ایشن انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے نام سے بنائی جو اب تک ڈھائی سو سے زیادہ ممالک میں اپنا نام بنا چکی ہے

رانا بشارت علی خان اور ہم آپ کی پوری خدمت پر فخر کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں
کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں گے
‏‎ان کی کاوشوں کے بدلے نہ صرف یوکے یورپ بلکہ سعودی عریبیہ تک ان کو مختلف اعزازی ایوارڈ سے نوازا گیا جس میں خاص طور پر یورپی یونین
‏‎ س ساری جدوجہد کا مقصد برسٹل کے ایسے
‏‎لوگوں کا تعین کرنا تھا جنہوں نے اپنی زندگی عوامی فلاح کے لئے وابستہ کر دی اور ان کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کا ارادہ رکھنے والےبر سٹل یونیورسٹی برسٹل سٹوڈنٹ یونین اور برسٹل24/7کے سر جاتا ہے جنہوں نے ایسے لوگوں کو برسٹل کی پہچان ماننا ہے جنہوں نے واقعی انسانیت کے لئے اور مختلف شعبوں میں اہم رول ادا کیا ہے امید ہے یہ کاوش برسٹل کی پہچان بنے گا اور ایک لینڈ مارک بنے گا

ایک سوال جو ہر مسلمان اور ہر انسان جاننا چاہتا ہے اس کا رانا پر شرط علی خان ہے بڑا واضح پیغام دیا ہے کہ میں دنیا کائنات میں آج تک نہ ہی کسی ادارے کا تنخواہ دار ملازم رہا ہوں اور نہ ہی کسی ادارے سے کبھی بھی کوئی مراغات حاصل کی ہے یہ ساری جدوجہد اپنی حلال کمائی پر کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *