ترکی میں مقیم ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی مہاجرین کو تنہا نہیں چھوڑوں گا


رانا بشا رت علی حا ن
پاکستان میں موجود والدین اپنے بچوں کو سہانے خواب دیکھتے ہوئے ترکی ایجنٹوں کے ہاتھوں جانے سے روکے ترکی میں پاکستانی نوجوان جانوروں سے زیادہ بدتر حالات میں رہ رہے ہیں ان کے لئے وہاں پر کوئی بھی مستقبل نہیں ایجنٹ پاکستان میں یورپ کے سہانے خواب دکھا کر پاکستانی نوجوانوں کو ایران کے راستے ترکی لے کر آتے ہیں ان کو سختی سے مقابلہ کرنا چاہیے ترکی میں پاکستانیوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے اگر وہ غیر قانونی طور پر ترکی میں انٹر ہوتے ہیں رانا بشارت علی خان کی ترکی کے آنٹی ریل منسٹر فارن منسٹر اور میر سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے واضح طور پر یہ بات کہہ دی ہے کہ ترکی میں موجود پاکستانیوں کا واحد حل یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کو واپس جائیں ترکی ان پناہ گزینوں کو کسی بھی قسم کی کوئی بھی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ترکی کی جیلوں میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی موجود ہیں اس موقع پر ترکی کے گورنر نے رانا بشارت علی خان سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی عوام آگئے ہیں گورنمنٹ کی ان پالیسیوں کے خلاف ہے جس میں شامی پناہ گزین ساٹھ لاکھ سے زیادہ پناہ لے چکے ہیں اور ساتھ ساتھ افغانستان اور عراق کے مسلمانوں کو بھی بڑی تعداد میں پناہ دی چکے ہیں کیونکہ پاکستان حالت جنگ میں ہیں نہ ہی وہاں معاشی حالات بہت خراب ہیں یہ لوگ ترکی غیر قانونی طور پر ہوتے ہیں ان لوگوں کا ترکی کی معیشت ترکی کے مستقبل میں کوئی بھی مستقبل نہیں ان لوگوں کا واحد حل یہ ہے کہ ترکی سے واپس چلے جائیں اور اپنے ملک میں اپنی زندگی کو گزارنے کا سنہرے خواب وہاں پر سوچیں اس موقع پر رانا بشارت علی خان نے بارہا کوشش کی گئی ترکی کی گورنمنٹ ان پناہ گزینوں کے لیے میڈیسن کی کوئی بھی سہولت فراہم کرے جس پر ترکی کے گورنر اور ڈپٹی منسٹر نے واضح الفاظ میں بتایا کہ یہ لوگ ترکی کے اندر غیر قانونی طور پر انٹر ہوئے ہیں ان کو ترکی کی گورنمنٹ کسی بھی طرح کی کوئی سہولت فراہم نہیں کرے گی یہاں یہ بات بھی واضح بتا دینا چاہتا ہوں کہ ترکی میں بند کمروں میں جہاں پر ایک انسان بھی آرام سے نہیں سو سکتا ان کمروں میں سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی نوجوان سنہرے خواب لے کر خارش کھانسی بخار نزلہ اور ٹی بی جیسے امراض میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں اس موقع پر شاہ محمود قریشی سے بات کرتے ہوئے رانا بشارت علی خان اور شاہ محمود قریشی نے متفق ہو کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنے کا ارادہ کیا ترکی میں موجود انٹر نیشنل ویمن رائٹس موومنٹ کے ترجمان عمران احمد اور خلیل احمد اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اگر ترکی میں موجود پاکستانی ایمبیسی ان لوگوں کے ڈاکومنٹیشن جلدیں بنانے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں تو بہت سی تعداد ایسی ہے جو لوگ پاکستان جانے کے لیے تیار ہے اس موقع پر انٹرنیشنل انٹر نیشنل ویمن رائٹس موومنٹ ترجمان نے بتایا کہ ترکی میں موجود ایجنٹوں افغانیوں اور پولیس کے ہاتھوں اپنی جان دینے سے بہتر ہے کہ ترکی میں موجود پاکستانیوں نوجوان واپس اپنے ملک چلے جائیں
ترکی میں پاکستانی قونصلیٹ کی نمائندہ ارفع طارق اور ڈپٹی کونسلیٹ جنرل اس بات کا واضح اعلان کیا کہ اگر کوئی بھی شخص پاکستانی ایمبیسی کے نا م پر کسی بھی طرح کی ناجائز پیسے یا رشوت کو طلب کرتا ہے تو اس کا فوری طور پر پاکستانی ا مبیسی کو بتایا جائے کہ ان کا کوئی بھی منتخب ٹکٹ والا نہیں اگر کوئی شخص پاکستان جانا چاہتا ہے تو وہ کہیں سے بھی ٹکٹ خریدے لیکن پاکستانی کونسلیٹ یا امبیسی سے رابطہ ضرور کرے امبیسی ایسے لوگوں کے خلاف جلد کریک ڈاؤن بھی کرے گئی جو قونصلیٹ کے نام پر پاکستانی کمیونٹی سے پیسے یا رشوت لے رہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *