پہلے حج کے موقع پر کشمیر کے لئے دعا نہ مانگنا

پہلے حج کے موقع پر کشمیر کے لئے دعا نہ مانگنا پھر اقوام متحدہ میں کشمیر کے حق میں مسلم ممالک کا پاکستان کو وٹ نا دینا انڈین وزیر خارجہ کو او آئی سی کے اجلاس میں دعوت دینا اور اب او آئی سی کے اجلاس سے کشمیر کو ایجنڈے سے غائب کرنا پاکستان کی ناکارہ سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے

عالمی سطح اور پر کشمیر کے مسلہ پر پاکستان تنہائی کاشکار

او آئی سی کے اجلاس میں اس سے پہلے انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کو مدعو کر کے پاکستان کو کشمیر پر تنہا کر دیا گیا تھا

رانا بشارت علی خاں

کشمیر کے لیے دنیا بھر میں پاکستان کو اپنی سفارتکاری پر نظر ثانی کرنی ہوگی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان دنیا بھر میں کشمیر کے مسئلے کو لے کر تنہا ہو گیا ہے

او آئی سی وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے ایجنڈے پر کشمیر نہیں ہے
رانا بشارت علی خاں

او آئی سی مظلوم مسلمانوں خاص طور پر کشمیر فلسطین کی ترجمانی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رانا بشارت علی خان

‎او آئی سی اجلاس میں کشمیر ایشو شامل نہیں ہے!!!
‎چیئرمین انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ
‎رانا بشارت علی خان
‎انڈیا اور سعودی عرب کے وسیع تر مشترکہ مفادات ہیں اور سعودی عرب کشمیر کے بارے میں انڈیا کے خلاف بولنے سے گریز کرتا رہا ہے۔ انڈیا کی جانب سے کشمیر کو دی جانے والی خصوصی چیثیت کے خاتمے پر بعد بھی سعودی عرب نے انڈیا کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔
‎ایک اہم خلیجی ملک متحدہ عرب امارات نے تو یہاں تک کہا کہ یہ انڈیا کا داخلی مسئلہ ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اس موقف کو پاکستان کے لیے جھٹکے اور انڈیا کی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔
‎لیکن ایک بار پھر او آئی سی کی جانب سے اس قسم کی میٹنگ کے انعقاد کو پاکستان اپنی کامیابی سے منسلک کرے گا۔ اس سے قبل اس طرح کی میٹنگ گذشتہ سال ستمبر میں ہوئی تھی۔
‎کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کی غیرجانبداری کے حوالے سے پاکستان نے ترکی، ملائشیا، ایران کے ساتھ گروپ بندی کی کوشش کی تھی۔ اس کے لیے ترک صدر رجب طیب اردوغان، ایران کے صدر حسن روحانی، ملائشیا کے اس وقت کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔لیکن سعودی عرب کی ناراضگی کی وجہ سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی اور اپنے وزیر خارجہ کو ملائیشیا نہیں بھیجا تھا۔
‎بہرحال ترکی اور ملائیشیا کو کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ کھڑے دیکھا گیا ہے جبکہ باقی اسلامی ممالک عام طور پر غیر جانبدار رہے۔ حالیہ دنوں میں او آئی سی کے رکن مالدیپ نے انڈیا کی حمایت کی ہے۔
‎او آئی سی کا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد کیا جارہا ہے جب انڈیا اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کے مابین کشیدگی جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقے لداخ میں ہونے والی جھڑپ میں انڈیا کے 20 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
‎دوسری جانب انڈیا کے لیے نیپال کی سرحد پر بھی نیا تنازع پیدا ہو گیا ہے اور پاکستان کے ساتھ تو پہلے سے ہی انڈیا کا رشتہ کشیدہ ہے۔ ایسی صورتحال میں او آئی سی کا اجلاس بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
‎جموں و کشمیر پر او آئی سی کے اس رابطہ گروپ میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔
‎او آئی سی کے اجلاس میں اس سے پہلے انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کو مدعو کر کے پاکستان کو کشمیر پر تنہا کر دیا گیا تھا اور سعودی عرب کے بغیر او آئی سی کو قدم نہیں اٹھاتی سعودی عرب کی او آئی سی میں مکمل اجارہ داری قائم ہے سعودی عرب میں حج کے موقع پر پہلے کشمیری مسلمانوں کے لیے دعا کروائی جاتی تھی لیکن گزشتہ 2 سال سے کشمیری مسلمانوں کے لیے دعا کو بھی سعودی حکومت نے بند کروا دیا ہے۔متحدامارات اور سعودی حکومت کا جھکاؤ مکمل طور پر بھارت کی طرف ہے۔
‎کشمیر کے لیے دنیا بھر میں پاکستان کو اپنی سفارتکاری پر نظر ثانی کرنی ہوگی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان دنیا بھر میں کشمیر کے مسئلے کو لے کر تنہا ہو گیا ہے
‎او آئی سی مظلوم مسلمانوں خاص طور پر کشمیر فلسطین کی ترجمانی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔
‎میں ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ ایک مضبوط معاشی طور پر پاکستان ہی کشمیر کی بات دنیا میں کرتے ہوئے اچھا لگتا ہے پاکستان کو پہلے اپنے معاشی اور تجارتی تعلقات کو درست سمت دینا ہو گی دنیا بھر میں موجود کشمیری پاکستانیوں کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے دنیا بھر میں کشمیری لیڈر شپ کشمیر کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں کشمیر کمیٹی کو وسعت دی جائے اور کشمیری رہنماؤں کو کشمیر کی خارجہ پالیسی میں شراکت داری میں شامل کیا جائے۔
‎ جمعہ سے نائجریا کے دارالحکومت نیامی میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
‎ او آئی سی کے بیانات ، انگریزی اور عربی دونوں میں ، ریاض میں اعلان کردہ ایجنڈے میں کشمیر کا کوئی خاص ذکر نہیں کیا گیا۔
‎ او آئی سی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف الاثمین کے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں فلسطینی کاز ، تشدد ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ، اسلامو فوبیا اور مذہب کی بدنامی ، غیر اقلیتوں میں مسلم اقلیتوں اور معاشروں کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ -ممبر ریاستیں ، بین الاقوامی عدالت انصاف میں روہنگیا کیس کے لئے فنڈ جمع کرنے کے ساتھ ساتھ تہذیبوں ، ثقافتوں اور مذاہب کے مابین مکالمہ کو فروغ دینے اور دیگر ابھرتے ہوئے معاملات کو فروغ دینے کے لئے۔
‎ نیامی اجلاس کے ایجنڈے میں سیاسی ، انسان دوست ، معاشی ، معاشرتی اور ثقافتی اور سائنس اور ٹکنالوجی ، میڈیا اور “او آئی سی 2025: پلان آف ایکشن” دستاویز کے نفاذ میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق دیگر امور پر تبادلہ خیال بھی شامل ہے۔ . مزید یہ کہ اس میں “سلامتی اور انسانیت سوز چیلنجوں کا مقابلہ کرنے والے افریقی ساحل ریاستوں کے ممبروں کو او آئی سی کے ممبروں سے مقابلہ کرنے” کے سلسلے میں ایک ذہن سازی سیشن پیش کیا جائے گا۔
‎ اس وقت سے ہی بھارت مقبوضہ کشمیر کو الحاق کرنے سے پاکستان اس تنازعہ پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ سے خصوصی ملاقات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ اب تک یہ اجلاس نہیں بلایا گیا کیوں کہ مسلمان ممالک کے 57 رکنی بلاک میں ورچوئل ویٹو چلانے والے سعودیوں نے اسلام آباد کے اس اقدام کی حمایت نہیں کی ہے۔
‎ باقاعدہ وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے ایجنڈے سے کشمیر کی تازہ ترین قابلیت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور سعودی عرب / متحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات دباؤ کا شکار ہیں جو پاکستانی سفارت کاروں کی باتوں سے “ادھوری توقعات” ہیں۔
‎ ایک سفارتی ذرائع نے الگ الگ کہا کہ اس بار کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ بھی ملاقات نہیں کرے گا۔ میزبانوں نے کوویڈ 19 کے وبائی امراض کے بہانے اجلاس کی پاکستانی درخواست مسترد کردی۔
‎ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لئے بدھ کے روز اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
‎ دفتر خارجہ نے کہا کہ مسٹر قریشی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی صورتحال کو اجاگر کریں گے اور گذشتہ سال انضمام اور مسلم اکثریتی اور متنازعہ خطے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے اقدامات متعارف کرانے کے بعد۔
‎ اس دوران ، وزیر خارجہ نے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور سیکرٹری جنرل کو ایک خط لکھا ، جس میں سلامتی کونسل پر زور دیا گیا کہ وہ بھارت کو اپنے مجرم نوآبادیاتی منصوبے کو تبدیل کرنے سے روکنے کے لئے اپنی براہ راست ذمہ داری کا استعمال کرے۔ متنازعہ علاقے کا آبادیاتی ڈھانچہ۔
‎ خط میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے جائز حق کو تسلیم کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *